یہ ایک مشہور نبوت توریت میں سے ہےجس کو بعض محمد ی پڑھنے والے کلام کے اپنے نبی یعنی محؐمد صاحب کے حق میں گمان(اندازہ) کرتے ہیں ان کا خیال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ اس مقام میں بنی اسرائیل کو فرماتے ہیں۔ باقی پڑھیں
تما م اہل اسلام مقر(قرار کرنا) ہیں کہ محمدؐ صاحب نے بہت سے معجز ے دکھلائے ہیں۔ اگر کوئی اُس کے معجزے پر شک کرے تو وہ اُن کی نظر میں کافر اور ملعون (جس پر لعنت کی گئی ہو)ہے۔ باقی پڑھیں
جیسا ہم لوگ مذہب کے نام سےکچھ کام کرتے یا کرنا چاہتے ہیں۔ ویسا ہی مذہب خود ہمارے لئے کچھ کام کرتا ہے۔ اور جہاں جانبین(دونوں جانب سے۔فريقين) کے کام برابر ہو جائیں وہاں کہا جائے گا کہ مذہب کی تکمیل ہوئی۔ باقی پڑھیں
مسیح نے ویسی ہی تعلیم دی جیسا کہ اُسی کے کلام سے ظا ہر ہوتا ہے کہ وہ سب گنہگار وں کے بچانے کو آیا اور اگر ہر ایک بات جو اُس نے فرمائی سچ ہے تو ہندوں کو اُسے قبول کرنا چاہیے۔ باقی پڑھیں
ایمان کی خاصیت اور اُس کی حد پاک کلام کے ہر ایک ورق میں عمدہ علامات ایمان کی بیان کی گئی ہیں ۔ اور جو تاثیرات اُ س کی گرو ہاگر و ہ خلقت نے بیان کی ہیں وہ سب بجا ہیں ۔ لیکن جب بیان بائبل کے جب تک مسیح پر ایمان نہ ہو تب تک فی الحقیقت اِنسان خُدا کے غضب میں مبتلا رہتا ہے۔ اس باقی پڑھیں
جنابِ مسیح کو ہم صرف بنی نہیں جانتے ۔کیونکہ نبوت (رسالت)اس کے دوسرے درجہ کا کام تھا خاص کام ( جس کے لئے وہ اس دُنیا میں آیا ) یہ تھا ۔کہ اپنی جان دے کر گناہوں کا کفارہ (گناہ دھو دينے والا)کرے اور گنہگار وں کو نجات بخشے اس لئے یسوع مسیح اُس کا نام ہوا۔ وہ کلامِ اللہ اور ابن ِاللہ ہے۔ باقی پڑھیں
یہ چاروں باتیں مسیحیوں کے عقیدہ کا ایک جزو ہیں۔ اور بڑی مشکل ہیں اور اس لئے ہندو و مسلمان وغیرہ اس میں لغزش(خطا۔لرزش) کھاتے ہیں ۔ اور اس پر معترض(اعتراض کرنے والا) ہوتے ہیں۔ چند ر وز ہوئے کہ اخبار منشور محمدی میں بھی ایک مضمون اسی بناء پر ایک شخص مسمٰی ملک شاہ نےتحریر فرمایا ہے ۔ جو کہ محض اُن کی ناواقفی اور نافہمی کا نیتجہ ہے۔ باقی پڑھیں
نبیوں کے کلام میں مسیح جابجا کفارہ کے طور پر بیان ہوا ہے۔ خاص کر یسعیاہ نبی کی کتاب میں دیکھو ۵۳ باب اور اُس کی ۴۔ ۵ ۔ ۶۔ ۸ ۔ آیت اس میں یوں بیان ہے یقیناً اُس نے یعنی مسیح نے ہماری مشقتین اُ ٹھالیں۔ اور ہمارے غموں کا بو جھ اپنے اُوپر چڑھایا ۔ پر ہم نے اس کا یہ حال سمجھا ۔کہ وہ خُدا کا مارا کُوٹا اور ستایا ہوا ہے۔ باقی پڑھیں
مسيحی مذہب اور ديگر مذاہب دُنيا ميں يہ ايک نہايت عظيم فرق ہے۔کہ وہ گنہگار انسان کی مخلصی و نجات اور حِصولِ قربت و رضا مندی الہیٰ کو اُس کے اعمال حسنہ کا اجر و جزا نہيں ٹھہراتا۔بلکہ اُس کو صرف الہیٰ فضل و بخشش ظاہر کرتا ہے۔جبکہ ديگر مذاہب تعليم ديتے ہيں۔ باقی پڑھیں