By
One Disciple
ایک شاگرد
آہا ۔آج ہمارے ناظرین حیران ہوں گے کہ یہ کہاں سے آنکلا۔جناب ذرا تحمل کیجیے گا ۔سب کچھ پتہ لگ جاتا ہے۔یہ عربی لفظ ہے۔جس کے معنی’’ ملاپ،دوستی،ایکا‘‘ کے ہیں۔اس کے سُننے سے ہر ایک کے کلیجہ میں ٹھنڈک اور دل میں اُمنگ پیدا ہوتی ہے۔کہ درحقیقت اس کے حاصل کرنے میں سچی خوشی و راحت ملتی ہے۔اور معنی کے لحاظ سے بھی یہ بڑی عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔آدمی کا مدنی الطبع(شہری پن، فطرتاً اپنے ساتھیوں سے مل جل کر رہنے والا) ہونا ہی اس امر کا شاہد (گواہ)ہے ۔وہ ملکوں ،شہروں اورگاؤں میں ہمیشہ اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ مجھے کوئی بغیر دام (قیمت)لے ۔وہ قوموں،فرقوں اورسوسائٹیوں میں پکارتا ہے کہ مجھے مفت لو۔اور تب ہی اپنے مقصدوں میں کامیاب ہوگے ورنہ مایوسی کا سر ٹیفکیٹ ملے گا ۔غرض کہ اُس نے اپنی زندگی کا اعلیٰ مقصد یہی ٹھہر ایا ہے کہ میں ہر ایک کے سامنے اچھا اور بھلا اور مقبول ِنظر ہو ں ۔ہم سب کو با آواز بلند پکار پکار کر کہتا ہے کہ سونے والواُٹھو۔ٹوٹے جاتے ہو ۔کیوں خوابِ غفلت میں ڈوبے ہو ۔جاگو اور باہم اتفاق سے رہو۔ورنہ تکلیف اُٹھاؤ گے۔دوسروں کے غلام بنو گے۔صاحبان،چیونٹیوں ،کووّں اور شہد کی مکھیوں کو دیکھئے وہ مل جل کر رہتے ہیں ۔
تو کیا اَے بنی آدم اشرف المخلوقات ہو کر بھی آپس میں ہمدردی،ملاپ،محبت سے نہ رہو تو کیا یہ شرم کی بات ہے یا کہ نہیں ۔ذرا اُوپر نظر اُٹھا کر قدرت کے بنائے سورج چاند کو تو دیکھو۔کیسے اپنی اپنی باری پر ہماری طرف تک رہے ہیں ۔نہ شکایت ہے نہ حسدنہ بخل(کنجوسی) ۔مکھیاں جو زہریلی ننھی ننھی جان ہیں باہمی اتفاق سے انسانوں کے لئے دن رات محنت کرنے کے بعد عمدہ اور لذیذ شہد پیدا کرتی ہیں ۔جس کو ہر ملک میں خوشی سے استعمال کرتے ہیں۔کیا یہ نااتفاقی کا نتیجہ ہے یا کہ اتفاق کا؟صاحب یہ تو اتفاق ہی کی بدولت ہے ۔اسی طرح اگر آدمیوں میں اتفاق ہو۔تو خُدا معلوم کیا کیا نتیجے ظہور میں آئیں ۔
غیر ملک کے باشندوں پر توجہ فرمائیے۔وہ کیسے اتفاق سے رہتے ہیں ۔تمہارے ہی ملک پر حکومت کرتے،قانون ایجاد کرتے اور آپ ان کے سامنے نا اتفاقی کے باعث سر جھکائے ہاتھ جوڑے ہر دم کھڑے ہو ۔ان کا کوئی ظلم نہیں نہ حسد مگر یہ سب کچھ اُنہیں اتفاق ہی کی بدولت نصیب ہوا۔اُن کے دماغ ہندوستان کی دولت ،میوؤں ، حکومت ، صحت بخش مقاموں اور نوکروں سے عالمِ بالا کی سیر کر رہے ہیں ۔میرا اور آپ کا اتفاق سے نہ رہنا ۔اُن کی خوشی نہیں ۔بلکہ یہ ہماری ہی نادانی و بربادی کا باعث ہے۔
جاگو اور باہم اتفاق سے رہو۔ورنہ تکلیف اُٹھاؤ گے۔

آؤ اب ہم تم شیرو شکر(ایک ہونا) ہو جائیں ۔صلح و امن سے رہیں ۔غیروں کو اپنی جہالت و کوتاہ اندیشی(کم فہمی) اور نااتفاقی پر ہنسنے اور خوشی کرنے کا موقع نہ دیں۔ پس اب بلا امتیاز چھوٹے بڑے کےایک دوسرے کے ساتھ متفق ہو جاؤ۔ہمیشہ نیک کاموں میں متفق ہونے کے لئے مستعداور تیار رہو۔اتفاق ڈنکے کی چوٹ (اعلانیہ)کی طرح چلا چلا کر کہہ رہا ہے کہ اگر مل کر رہو گے تو تمام مشکلات دور ہو جائیں گی اور تمام کام آسان ۔ورنہ غلامی تو ہندوستان کے حصّہ میں آچکی ہے ۔کاش کہ خُدا کرے مسیحیوں میں نااتفاقی کی بُو تک نہ رہے اور غیر اقوام کو طعن(طنز، ملامت) کرنے کا موقع نہ ملے۔آمین۔