Bondage of Caste System
By
One Disciple
ایک شاگرد
ہندوؤں ميں

ايک بات جس کو اُن کی ذات روا رکھتی ہے چاہے اُن کا ضمیر اور عقل اُس کو خلاف اور بُرا سمجھے ليکن وہ بات ضرور پوری کی جائے گی۔اگر بہت سی باتوں کاجو ہندوؤں کی ذات ميں مروج (رواج)ہيں اور وہ خود بھی ان کے بُرے ہونے کے قائل ہيں بيان کيا جائے تو يہ مضمون طویل ہو جائے گا۔غرضکہ ذات کے بندھن ميں پھنس کر ہندو لوگ اپنے ضمیر اور عقل کے خلاف بھی کام کرتے ہيں اور صرف اسی لئے کہ ذات کا رواج اُن کو مجبور کرتا ہے۔اگر نہ کريں تو ذات برادری بُرا کہے گئی۔آريا صاحبان نے اکثر باتوں کو چھوڑنے ميں بڑی جوان مردی کی ہے۔ليکن وہ بھی اکثر ذات کے بندھن ميں قيد ہو کر آپ نہيں تو مستورات(پردہ نشين عورتيں) کے سبب سے بہت سی ایسی باتوں ميں شريک ہو جاتے ہيں۔اگرچہ اُنہوں نے عقلمند ہو کر ناقص باتوں کی ترديد کی مگر ذات کی زنجیر سے نکلنا اُن کے لئے ابھی تک ذرہ مشکل نظر آتا ہے۔ايسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہيں کہ قابل نقص باتوں کو بھی چھوڑديں اور ساتھ ہی ذات ميں بھی شامل رہيں۔چنانچہ ايسا ہی اب تک وہ کرتے ہيں۔ليکن ذات کا بندھن اُن کو بھی مضبوطی کے ساتھ جھکڑے رکھتا ہے۔
ذات کے غُلاموں پر اس بات ميں اِفسوس آتا ہے۔کہ وہ خود مانتے ہيں کہ آدمی سرشت ميں اُتم (اعلیٰ فطرت)ہے ۔باوجود اس کے وہ آدمی کی قدر کتّے اور بلّی سے بھی کم کرتے ہيں۔

مُسلمانوں میں
مسلمانوں ميں بھی ذات کےفرقوں کے اِختلاف کے سبب سے مختلف دستورات و رسومات مروّج ہيں ۔اور اُن کے پابند ہو کر وہ اُن کو بجالاتے ہيں ۔ اور آپس ميں چھوٹی بڑی ذاتيں مانتے ہيں اور عزت اور بے عزتی خيال کر تے ہيں ۔يہ اِس قسم کا خيال صرف اِس ملک کے مسلمانوں کا زيادہ تر ہے ۔شايد اس کا سبب يہ ہو کہ ان کا ميل جول صديوں سے ہندوؤں کے ساتھ رہا ہے اور اُن کے ديکھا ديکھی بہت سی باتيں ان ميں بھی رواج پکڑ گئی ہيں۔
سکھّوں ميں
سر پر رکھ اِس فرقے ميں شامل ہو جاتے ہيں ۔اگرچہ اس مذہب کے بانيوں نے ذات کی امتياز کو توڑنا چاہا تھا جيسا کہ اُن کی کتاب سے پايا جاتا ہے
’’نہ جات ہے نہ پات ہوتی ہے ۔نہ جات پات ہوتی ہے ۔نہ رنگ ہے نہ روپ ہے نہ رنگ روپ ہوتا ہے ‘‘۔
ليکن يہ امتياز ٹوٹ نہ سکی بلکہ جيسا ہندوؤں کے فرقے ہيں ويسا سکھوں کے بھی ہيں ۔اور وہ بھی ذات کے بندھن ميں قيد ہيں ۔

يہوديوں ميں
مسیحیوں ميں
اِس لئے يہ مذہب عام طور سے سب کو بِلا روک ٹوک کھلم کھلا بلاہٹ عامہ سے دعوت کرتا اور جو اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اور ذات جیسے فضول اور ردّی وسوسوں(بُرے خيالوں) اور مخمصوں(جھگڑوں) کو چھوڑ کے سچے دل سے مسیح پر ايمان لاتا ہے چاہے وہ ہندوؤں کی اعلیٰ ذات ميں سے ہو يا ادنیٰ ذات ميں سے چاہے مسلمانوں يا سکھوں، چوہڑوں اور چماروں ميں سے ہو مسیح ميں پيوند ہو کر مسیحی کليسيا کے بڑے شجر کی ايک ڈالی بنتااور اُس کو کسی خاص ذات کے لحاظ سے نہيں ديکھا جاتا بلکہ مسیح کا شاگرد سمجھ کر مسیحی جماعت ميں شامل کر ليا جاتا ہے۔اِسی خصو صیت سے مسیحی مذہب بمقابلہ دیگر(دوسرے) مذاہب کے اپنے ميں منجانب اللہ ہونے کا ايک ثبوت رکھتا ہے۔
اوّل
کھانے اور پينے کے فرق سے۔ چونکہ نجات کا دروازہ تمام بنی آدم کے واسطے کُھلا ہے اور خُدا کی بخشش عام ہےخاص نہيں اِس لئے ہندو،مسلمان،سکھ،چوہڑےاور چمارسب نجات کے برابر خواہشمند ہيں۔صرف مسیحی مذہب اِس خواہش کو پورا کرتا ہے۔اور اُن ميں سےہر زمانہ بےشمار لوگ مسیحی ہوتے ہيں۔ليکن بعض جو ذاتوں کی پابندی کی نسبت بڑے تھے ۔ مسیحی ہوکر بھی اپنی اگلی بڑائی کو جتانے لگتے اور اُن لوگوں کے ساتھ جو ادنیٰ ذات ميں سے مسیحی ہوئے کھانا کھانا عیب تو نہيں سمجھتے پر پرہيز کرتے ہيں۔اور ضيافتوں کے موقوں پر اُن کو پرہيز کے ساتھ الگ سمجھتے اور اس طرح سے مسیحیوں کی دل شکنی کرتے اور خُداوند کے حکم کو بھول جاتے ہيں۔اور حقہ پانی ميں بھی ادنیٰ ذات سے عيسائی ہوئے بھائيوں کو شريک نہيں کرتے ۔يہ بڑی کمزوری کا نشان ہے اور مسیحی جماعت ميں يہ ہرگز نہيں ہو نا چاہئے۔
دوم
شادی بياہ کے فرق سے ۔جو اعلیٰ ذاتوں سے عيسائی ہوئے کبھی کبھی ان ميں سے کوئی کوئی اپنے لڑکے اور لڑکيوں کی شادی کے لئے دقت (مشکل)ديکھتا ہے۔وہ اپنے موافق کسی اعلیٰ ذات سے عيسائی ہوئےشخص کی تلاش کرتا ہے۔اور اگر نہيں ملتا تو شادی نہ کرنا تو منظور ليکن کسی ادنیٰ ذات سے عيسائی ہوئے شخص کے ساتھ ايسا بندوبست نہيں کرتا۔اگر کوئی کہے کہ نہيں ايسا نہيں تو ميں کہہ سکتا ہوں کہ ايسا ميرے ديکھنے ميں آيا ہے اور ميں اُس کو عيسائيوں ميں بڑی کمزوری سمجھتا ہوں۔
سوم
غير قوموں کے ذاتی لقب اپنے نام ساتھ لگانے سے۔ بعض عيسائی جو اعلیٰ ذاتوں ميں سے عيسائی ہوئے۔اکثر اپنے ناموں کے ساتھ الفاظ سيّد،پنڈت،مولانا،شيخ،بششٹ، تہاپر۔وغيرہ وغيرہ لگائے رکھتے ہيں۔جو ميری سمجھ ميں کچھ ضرور ی نہيں۔اُن سے سوا اس کے کہ يہ ظاہر ہو کہ وہ اعلیٰ ذات ميں سے عيسائی ہو ئے اور کيامتصور (تصور کرنے والا)ہے۔اور جس حال ميں کہ ہم اِن ذاتوں کو اعلیٰ نہيں سمجھتے تو ہم کيوں ان پر فخر کريں۔اگر ہم فخر کريں تو صرف مسیحی ہونے پر کريں۔کيونکہ مسیحی ہونا ايک بڑی بات ہے نہ کہ سيّد،برہمن،کھتری اور مسلمان ہونا۔
چہارم۔
غير قوموں کے ساتھ گفتگو کرتے وقت۔چونکہ ذات کا اس ملک ميں بہت رواج ہےاور اثنا(وقفہ۔درميان)گفتگو ميں سب سے پہلے يہ ذکر آتا ہے کہ آپ کی کيا ذات ہے؟اور جب کہو کہ عيسائی تو پوچھتے ہيں کہ پہلے کيا ذات تھی تو اکثر اپنی ذات چھپا کے اعلیٰ ذات بتاتے ہيں اور گناہ ميں گرفتار ہوتے ہيں۔کيونکہ اگر نيچ ذات کا ذکر کريں تو گفتگو کرنے والے کی نظر ميں بے عزت ہوں۔يہ بھی بڑی بھاری کمزوری ہے۔