Look at all this
By
One Disciple
ایک شاگرد
’’اس طرح جب یہ سب دیکھو تو جانو۔ کہ وہ نزدیک بلکہ دروازہ ہی پر ہے‘‘ ( متی ۳۳:۲۴)۔
’’ تجھ سا کوئی زمانہ میں معجزبیاں نہیں۔ آگے تیرے مسیح کے منہ میں زباں نہیں‘‘۔
وہ نزدیک بلکہ دروازہ ہی پر ہے

پھر آپ نے ان کے مباحثہ دہلی کا ذکر کرکے ۔ دہلی والے ایک دوسرے مدعی مسیحائی کی تردید فرمائی ہے اور قادیانی صاحب کے بڑے گُن گا کے۔ ہمارے حال پر مہربانی فرمائی۔ اور لکھا ہے۔ کہ ’’ مگر وہ لوگ خصوصاً ایڈ یٹر نورافشاں کہ جو آنحضرت کے سامنے نو طفل مکتب (مد رسے ميں نيا لڑکا)کی طرح بیٹھا ہوا چپکا منہ تکتا رہتا ہے۔ اور مشن میں جا کر جو جی میں آتا ہے۔ دھر گھسیٹتا ہے۔ اعلیٰ ہذا آج کل اکثر اخبارات میں مسیح الزمان کے خلاف واقعات لوگوں نے لکھنے شروع کئے ہیں۔ جن کو ہم پڑھ کر تعجب(حيرانگی) کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں کو مسیح الزمان کی خوبیوں اور کمالات کے دیکھنے کا کبھی موقع خواب و خیال میں بھی نہیں ۔ وہ گھر بیٹھے ان کے خلاف طبع آزمائی(ذہانت کا امتحان) کر رہے ہیں‘‘۔ پس اس کے جواب میں صرف اتنا لکھنا مناسب جانتے ہیں کہ ہم صرف ایک مرتبہ معہ لالہ اُمراؤسنگھ صاحب سیکرٹری آریہ سماج لودیانہ اور دو ایک معزز اہلِ شہر کے ان سے ملنے کے لئے ( جب کہ وہ لودیانہ میں مقیم تھے) گئے اور جیسا آپ فرماتے ہیں طفلِ مکتب کی طرح بیٹھے ہوئے چپکے منہ تکتے رہنے کے لئے نہیں لیکن صرف یہ دریافت کر نے کو کہ آپ جو خلافِ عقیدہ عام اسلام ۔ مسیح کی وفا ت کے قائل ہیں۔ مہربانی کرکے یہ بھی بتلا سکتے ہیں کہ اُس کی صورت و طرح وفات (وفات کا طريقہ)کیا تھی۔ اور جو جواب آپ نے ديا ہم نے اسی ہفتہ کے نور افشاں میں شائع کر دیا۔ دوسرا سوال بائبل مقد س کی اصلیت و تحریف (حقيقت وتبد يلی)کے بارے میں تھا۔ جن کے جواب میں مرزا صاحب نے فرمایا کہ یہ ایک طویل اور بحث طلب بات ہے۔ جس کی نسبت حالت ِموجودہ میں وہ کچھ بھی نہ بولے ۔ اور ایک مرتبہ حسب الطلب (ضرورت کے مطابق)۔اس ہم صرف مباحثہ میں مرزا صاحب کو دیکھا۔ جو لودیانہ میں مولوی محمد حسن صاحب کے مکان پر ۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ ہوا تھا۔ وہاں کسی تیسرے شخص کے بولنے کی ضرورت نہ تھی۔ موحد صاحب کو یوں تو اختیار ہے کہ وہ قادیانی صاحب کو مسیح الزمان کیا۔ بلکہ جن کے رُوبرو (بقول ان کے ) مسیح بھی بے زبان ہے۔ سمجھیں ۔ لیکن مناسب نہیں کہ وہ اوروں کو۔ جو اُن کے ایسے مہمل (نکمّا)الہٰام اور مثیل مسیح(مسیح کی مانند) ہونے کے دعویٰ کو قبول نہ کریں ۔بُر ا بھلا کہیں۔
خُداوند مسیح۔جس کے مسیحی منتظر ہیں۔ جب پھر دُنیا میں تشریف لائے گا۔ تو اس کو مولویوں اور پنڈتوں کے ساتھ مباحثہ کرنے کتابیں چھپوا کے فروخت کرنے اور اشتہارات جاری کرنے کی کچھ ضرورت نہ ہو گی۔’’ کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کُوندکے پچھم تک چمکتی ویسا ہی ابن آدم کا آنا بھی ہوگا‘‘۔ پس موحد صاحب ہم سے ناراض نہ ہوں۔ کیونکہ ہم مسیحی لوگ کسی مثیل کے منتظر نہیں۔ بلکہ مسیح ہی کے منتظر ہیں۔ جس کے لئے بوقت ِصعود (آسمان پر جاتے وقت) فرشتوں نے رسولوں سے کہا کہ ’’ اے گلیلی مردو تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو۔ یہ ہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا اُسی طرح جس طرح تم نے اسے آسمان کو جاتے دیکھا پھر آئے گا‘‘( اعمال ۱۱:۱)۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحیوں نے قادیانی صاحب کے دعوؤں اور الہٰاموں پر مطلق (با لکل)تو جہ نہ کی ۔اور ہے بھی یوں کہ قادیانی صاحب محمد یوں ہی کے سامنے اپنی مسیحائی کو پیش کر رہےہیں۔ اور ان کا رقیب (ہم پيشہ)بھی جو دہلی میں کھڑا ہوا وہ محمدیوں میں سے ہے۔ مسیحیوں کو ایسی بے سود (بے فائدہ)باتوں سے کچھ سرو کار(واسطہ) نہیں۔ مُوحد صاحب ناحق ہم پر اپنی خفگی (ناراضگی)ظاہر کرتے ہیں۔