Contradictory Incidents of Torah and Quran
By
One Disciple
ایک شاگرد
تفسیر قادری ترجمہ تفسیر حسینی میں لکھا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے قصہ میں اور اوریاہ کی عورت کے ساتھ آپ کےنکاح کرنے میں بہت اختلاف ہے ۔ بعض مفسروں نےیہ قصہ اس طرح بیان کیا ہے کہ شرع اور عقل اُ سے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے۔ جو کچھ صحت کے ساتھ معلوم ہوا ہے وہ یہ ہی کہ اوریاہ نے ایک عورت کے ساتھ اپنے نکاح کا پیا م دیا اور قریب تھا کہ اُ س کا نکا ح ہو جائے۔ عورت کے ولیوں (وارثوں نے)کو اُ س کے ساتھ کچھ خرخشتہ (پریشانی،جھگڑا)پڑا تھا اس لئے نکا ح نہ ہونے دیا۔ حضرت داؤد نے اپنے ساتھ نکاح کا پیام بھیجا اور حضرت داؤد کی ننانوے بيوياں تھیں عتاب الہٰی داؤد پر اس لئے ہوا کہ اوریاہ کے پیا م دینے کے بعد حضرت داؤد نے پیام ديااور اُ س سے نکاح کر لیا۔ جبرائیل اور میکائیل دو متخاصمین (دو گروہ)کی صورت پر اپنے اپنے ساتھ فرشتوں کا ایک ایک گروہ بشکل انسان لے کے داؤد کے پاس آئے اور بیان کیا کہ میرے اس بھائی کے پاس ننانوے بھیڑیں ہیں اور میری ایک ہی بھیڑ ہے اس نے غلبہ کر کے وہ بھی لے لی۔ داؤد نے کہا کہ اگر یہ کیفیت واقعی ہے تو اس نے ظلم کیا۔ جب حضرت داؤ د نے یہ بات کہی تو وہ کھڑے ہوئے اور نظر سے غائب ہو گئے پس حضرت داؤد سوچ میں پڑگئے اور مغفرت مانگی ۔ دیکھو تفسیر سورہ صٓ۔
اب اس بیان کا ( جس کو مفسر صحت کے ساتھ معلوم کیا ہوا بتاتا ہے مقابلہ ۲۔سموئیل ۱۲،۱۱ باب سے کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ مصنف اور مفسر قرآن صحیح واقعات انبیائے سابقین معلوم کرنے میں کس قدر قاصر ہیں ۔