By
One Disciple
ایک شاگرد
’’کسی سے کوئی چیز پا کر عوض میں چند الفاظ مقررہ زبا ن سے بولنا ۔ اور اس چیز کو اسی
غرض میں جس کے لیے دی گئی استعمال میں لانا میری رائے میں شکرگزاری کہلاتی ہے‘‘۔
پس یہاں بھی وہی نتیجہ ہے جو ہندو مذہب میں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ دونوں شکرگزاری کی منزل سے دور ہیں۔ لیکن مسیحی مذہب سکھاتا ہے کہ سب کچھ خداوند خدا نے ہم کو بخشش کے طور پر عنایت فرمایا ہے ۔ اور بتا دیا کہ انسان کسی نعمت کا مستحق نہیں۔ پس جب انسان نے یہ سکھایا ۔ کہ میں محض نکما ہوں۔ اور اس پر بھی پرور دگا عالم اپنے فضل و کرم سے اس دنیا میں انواع اقسام کی نعمتیں عطا فرماتاہے۔ تب اس کا ضمیر اسے قائل اور شکر گذاری پر مائل کرتاہے۔ اے ہمارے ہندو مسلم بھائیو! اگر ہم خدا کی نعمتوں کی قدر و قیمت کو ذرا بھی پہچانیں تو ہم کو قائل ہو کر یہ کہنا پڑے گا۔ کہ بارالہٰی ہمارے پاس تو کوئی ایسی نقد ی نہیں ۔ جس کو ہم تیری ادنی ٰ سے ادنی ٰ دی ہوئی نعمت کا معاوضہ قرار دیں۔ دنیا میں ایک روپیہ کے (۱۲) سیر گیہوں ملیں تو ملیں۔ پر ساری دنیا کی دولت دینے پر بھی امساک (خُشک سالی)بار ان میں ایک بوند پانی کی نہیں مل سکتی ۔ سر کا ایک بال بھی جب سفید ہوجاتاہے سب کچھ دے کر بھی سیاہ ہو نہیں سکتا۔
زندگی ، سانس ، بدن ، ہاتھ ، پاؤں، آنکھ، ناک ، کان ، خوراک ، پوشاک ، زمین ، چاند ، سورج ، ہوا وغیرہ ۔ کیسی کیسی خد اکی نعمتیں ہم کو ملتی ہیں۔اب ہم افسوس کے ساتھ خدا کی بڑی بخشش کا بیان کرتے ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ اگرچہ آپ لوگ ہزارہا نعمتیں خدا سے پاکر اور اپنے استعمال میں لاکر شکر گزاری ہے نہیں کرتے ۔ بلکہ اس نعمت عظمیٰ کو قبول بھی نہیں کرتے اگر ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی بخشی ہوئی شے کو قبول نہ کرنا کسی فرد بشر کے لیے موجب خرابی ہے۔ تو فرمائے بادشاہوں کے بادشاہ ۔ سلطان کے سلطان کی بخشش کو رد کرنا کتنا زیادہ سبب بربادی کا ہوگا۔ دیکھئے خدا اپنے کلام میں کیا فرماتا ہے۔ ’’ خدا نے جہان کو ایسا پیار کیا کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخشا۔ تاکہ جو کوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے‘‘۔ لیکن آپ لوگ جب اس نعمت اور بخشش کا ذکر سنتے ناراض ہو کر کہتے کہ ’’ہم اس کو قبول نہ کریں گے‘‘۔ فرمائے اس کا نتیجہ سوائے خرابی کے اور کیا ہے؟ براہ عنایت تعصب (بے جا حمایت) کو دل سے ہٹا کر سوچئے۔ جناب آ ہی کا فائدہ ہے مسیح کو قبول کرو اور شکر گزاری بجا لاؤ۔