Caiaphas and Resurrected Christ
By
One Disciple
ایک شاگرد
’’یہ وہی کائفاؔ تھا جس نے یہودیوں کو صلاح دی کہ اُمت کے بدلے ایک کامرنا بہتر ہے‘‘ (یوحنا ۸ا :۱۴ )۔
’’ایک روزآنحضرت نےاپنی بیٹی فاؔطمہ کو امام حسؔین کے کرؔبلا میں قتل کئے جانے کی خبردی ۔ تووہ بہت غمگین ہوئیں ۔ آپ نے فرمایاکہ اے فاؔطمہ کیاتم راضی نہیں ہو۔یہ کہ شہادت حسؔین کی عوض تاج شفاعت اُمت عاصی (گناہ گار)کاخدا تمہارے پاب کے سر پررکھے اور تمہارا شوہر اپنے دوستوں کو آب کو ثرپلائے اور دشمنوں کو ددر کرے ۔ ملا ئکہ تمہارے منتظر حکم کھڑے ہیں ؟ اسی طرح جب حضرت نے بہت سے کلمے فرمائے تو ا نہوں نے عر ض کی کہ اے بابا جو یہ ثواب ہے ۔ہمارے دوست بروز قیامت یو ں بیچیں گے تو میں راضی ہوں‘‘ اب خواہ ایسی پیش گوئی حضرت سے ہوئی یانہیں۔ اس سے کچھ بحث نہیں ۔ لیکن صرف یہ معلوم کرانا منظور ہے کہ شفاعت گناہ گار ان کے لیے محمدیوں میں بھی کفار ہ کی ضرورت کاخیال پایاجاتا ہے ۔اکثر قوموں میں آدمیوں کی قربانی چڑھ نے کی بنا ضرورکچھ معنی تو رکھتی ہے ۔ مگر غلطی صرف یہ واقع ہوئی ہے کہ لوگوں نے اس بات کے اصلی مطلب کو نہ سمجھا کہ آدمی کی قربانی بامجبور ی۔ یاکسی محض انسان کا تمام بنی آدم کے لیے قربان ہونا ۔موجب نجات گنا ہ گار اور خوشنودی خدا وند تعالی ٰ ہوسکتا ہے یا نہیں ۔ اور یہ کہ قربان ہونے والا شخص پاک اور معصوم ،گناہ گاروں سے جدا اور آسمانوں بلند ہو ۔ اورکل انبیا ءاور اس کی شہادت وقربانی پر گواہ وشاہد ہوں ۔پھر یہ بھی ضرور ہے کہ وہ بنی آدم کا عوضی(قائم مقام،بدلہ) ہمیشہ کے لیے قبر کے پھاٹک میں بند ۔ اورموت کے قبضہ میں گرفتا ر نہ رہے ۔ بلکہ جب اپنی جان کفار ہ میں گزران چکے تو ا پنی عظمت واختیار شفاعت کا ثبوت اپنے پھر زندہ ہوجانے سے بخوبی دے سکے ۔ اب یہ سب شفیع و ذبیج کے لیے ضروری باتیں بجر خدا وند یسوع مسیح کے اور کسی میں نہیں پائی جاتیں ۔ پس صرف مسیح کا لہو ۔جس نے بے عیب ہوکے ابدی روح کے وسیلے آپ کو خداکے حضور قربانی گزرانا ۔ہمارے دلوں کو مرد ہ کاموں سے پاک کرسکتا ہے۔ تاکہ ہم زندہ خدا کی عبادت کریں ۔ اورمردوں پر اپنی نجات کا کچھ بھروسہ نہ رکھیں۔حکدہفاجفلاس