By
One Disciple
ایک شاگرد
چوتھی اور پانچویں صدیوں کی پرانی قلمی جلدیں نئے عہد نامہ کی اب تک موجود ہیں۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اگرچہ رسولوں کی اصلی قلمی جلدیں اب باقی نہ رہیں تو بھی دوسری قلمی جلدیں مدت دراز تک یعنی تیرہ چودہ سو برس تک بہ حفاظت تمام رکھی گئیں۔ ان قلمی جلدوں کے حروف اور مصدر وغیرہ کی نسبت جن سے یہ نکلے اور ان طریقوں کی بابت کہ جن سے اس کی اصالت(اصلیت،اصل پن) یقین کی جاتی ہے۔ اے ۔ ایف ہارٹ صاحب کا عام پسندبیان ہے جس کو ہم ذیل میں مندرج کرتے ہیں۔
’’ جب ہم نیا عہد نامہ قلمی بولتے ہیں تو عام طور پر ہمارا مطلب کو ڈیکس ہوتاہے یعنی بڑی بڑی چمڑے کی وصلی والی کتاب اور وہ صفحے جو قلموں میں منقسم (تقسیم ) ہے اور دونوں طرف لکھے ہوئے ہیں۔ ان چرمی وسیلوں میں سے اکثر پلمسیسٹ کہلاتی ہیں اور یہ چرمی و صلیاں وہ ہیں جو پہلے متن ناقص طور پر چھلنے کے سبب منتقل کر دیئے جانے کے بعد مستعل ہیں اور بہت کارآمد قلمی جلدیں کیمیائی تحریر کے صر ف کے ذریعہ سے مرمت کی ہوئی پائی جاتی ہیں۔ ہمارے لیے عہد نامے کی متن یعنی یونانی متن انگریزی مترجموں سے قبول کی گئی ہے اور دستاویزان کے مقابلے سے نکالی گئی ہے۔ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا کہ چرمی و صلی اکثر کوڈیکس کہلاتی ہیں‘‘۔
اس قسم کی شہادتیں دو قسم کی ہیں۔
۱۔ مستقیم
۲۔ غیر مستقیم
شہادت مستقیم سے یہ مطلب ہے کہ نئے عہد نامے کی یونانی قلمی جلدوں سے بجنسہ(ایساہی) ملتی ہے۔اورشہادت غیر مستقیم سے یہ مطلب ہے کہ شہادت دوسرے ترجموں کی جو یونانی کے علاوہ ہیں جنہیں ورشنس یعنی ترجمہ لفظی کہتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ انتخابوں سے یا یونانی یا دیگر ترجمہ لفظی سے ملتا ہے جو قدیم (پرانے) عیسائی مصنفوں کی تصنیفات ہیں۔
یونانی متن کے ان تینوں مصدرو ں (نکلا ہوا) سے ہر ایک کی کچھ کیفیت میں ذیل میں بیان کرتاہوں۔
۱۔
یونانی قلمی جلدیں:
یونانی قلمی جلدیں دو قسم کی ہیں ایک بڑے حرفوں میں اور دوسری چھوٹے حرفوں میں۔
بڑے حرفوں میں لکھی ہوئی نئے عہد نامے کی قلمی جلدیں نہایت پرانی ہیں اور وہ شمار میں اب تک ایک سو پچاس (۱۵۰)موجود ہیں یہ نہایت ضروری ہیں۔ چونکہ یہ نئے عہد نامے کے متن کے لیے اصل معتبر ہیں میں ان میں سے پانچ کو چن لیتاہوں۔
۱۔ویٹیکن ۲۔کوڈیکس ۳۔اسکندرین ۴۔سینائی ۵۔افرایمی یا نبیرا
ان پانچوں میں اول چار نہایت ضروری ہیں اور ان میں سے کوئی کبھی ۱۶۱۱ء کے انگریز بائبل کے مترجموں کو دستیاب نہیں ہوتیں جس کی حقیقت ان لوگوں سے ملتی ہے جنہوں نے ہمارے وقت میں نظر کر دہ ترجموں کی ضرورت سے انکار کیا ہے۔
ویٹیکن و کوڈیکس جس پر نشان ہے چوتھی صدی میں لکھی گئی تھی اور بہت صدیوں تک شہر روم