Maulvi Ishmael and Blasphemous Teaching
By
One Disciple
ایک شاگرد
مولوی اسمٰعیل صاحب دہلوی اپنی کتاب تقویت الایمان کے صفحہ ۱۴ میں سورہ نساء کی آیت ۱۱۶
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا
خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مشرک نہ بخشا جائے گا اور شرک کی تفصیل حاشیہ پر یوں لکھی ہے جیسے کسی کو خدا کہنا یا اُ س کی صفت کسی میں بتانی جیسے علم غیب مارنا جلانا اور سوائے اُ س کے ثابت کرنا جیسے ہندو اور پیر پر ست وغیر ہ کرتے ہیں۔ بقول مولوی صاحب موصوف مذکور ہ باتیں موجب کفر(واجب بے دينی) ہیں۔ اب دیکھئے کہ محمد صاحب حجرِا سود مکّی میں وہ صفت ثابت کرتے ہیں ۔ جو مخصوص بذات الہٰی ہے یعنی علم ِغیب چنانچہ
جامع ترمذی ۔ جلد اول ۔ حج کا بیان ۔ حدیث ۹۵۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجَرِ وَاللَّهِ لَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلَی مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ۔
قتیبہ، جریر، ابن خثیم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم اللہ قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے دیکھے گا اور زبان ہوگی جس سے بات کرے گا اور جس نے اسے حق کے ساتھ چوما اس کے متعلق گواہی دے گا امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔
فاعتبر و یااولی الالباب ۔
خداوند اپنے لوگوں کو ایسی تعلیم سے محفوظ رکھے۔