By
One Disciple
ایک شاگرد
’’کیونکہ سو اُس نیو کے جو پڑی ہے۔ کوئی دوسری نیو ڈال نہیں سکتا۔ وہ یسوع مسیح ہے‘‘(۱ ۔کرنتھیوں۱۱:۳)۔
وہ یسوع تھا اور اس کا یہ نام بحکم خدا جبرائیل فرشتے کی معرفت رکھا گیا۔ جس کے معنی اپنے لوگوں کو ان کے گناہوں سے بچانے ولا ہے۔ وہ گم شدہ بنی آدم کو ڈھونڈنے اور بچانے کے لیے اس دنیا میں آیا ( متی ۱۱:۱۸) (لوقا۱۰:۱۹) ۔
اس کے اسکام کی نسبت ۵۸۷ برس پیشتر حزقی ایل نبی کی معرفت یوں پیشینگوئی کی گئی تھی۔ ’’ میں اس کو جو کہو یا ڈھونڈ ہوں گا۔ اور اسے جو ہانکا گیا ہے پھیر لاؤں گا۔ اور اس کی ہڈی کو جو ٹوٹ گئی ہے۔ باندھوں گا اور بیماروں کو تقویت دوں گا‘‘۔(حزقی ایل ۱۶:۳۴)
پس اس عظیم کام کے سر انجام کے لیے صرف اسی ایمان رکھنا واجب ہے۔ اور پس ’’ وہ لوگوں کی جان برباد کرنے نہیں ۔بلکہ بچانے آیا‘‘ (لوقا ۵۶:۹) ۔
ان کے بچانے کےلیے اس نے اپنی بے نظیر محبت کو ظاہر کیا جس کا بیان یوحنا رسول یوں کرتاہے۔ کہ ’’ ہم نے اس سے محبت کوجانا کہ اس نے ہمارے واسطے اپنی جان دی‘‘ (۱۔یوحنا ۱۶:۳) ۔
پولوس رسول لکھتا ہے۔ کہ ’’خدا نے اپنی محبت ہم پر یوں ظاہر کی ۔ کہ جب ہم گنہگار ٹھہرے تھے مسیح ہمارے لیے موا‘‘ (رومیوں ۸:۵) ۔
اس کے ایسا کرنے کی نسبت یسعیاہ نبی نے ۷۱۲ برس پیشتر یوں نبوت کی تھی۔
’’ لیکن خداوند کو پسند آیا ۔ کہ اسے کچلے اس نے اسے غمگین کیا۔ جب اس کی جان گناہ کےلیے گذرانی جائے‘‘(یسعیاہ ۱۰:۵۳) ۔
اس لیے صرف اسی اکیلے پر ایمان رکھنا چاہیے ۔ نہ کسی ایسے شخص پر جو اس کی کفارہ آمیز موت کا منکر ہو کر اس کے جھٹلانے کی کوشش کرے۔ اور اس عظیم حقیقت پر پردہ ڈالے۔ چنانچہ محد ساحب نے ایسا کیا۔ اور اس لیے مسیح کے ساتھ محمد پر ایمان رکھنے میں بڑی قباحت ہے۔
سوال مذکورہ کا قطعی فیصلہ کر دینے ولا جواب انجیل مقدس سے یہ ملتا ہے کہ ’’ کسی دوسرے سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دوسرا نام (بجز یسوع مسیح) نہیں بخشا گیا۔ جس سے ہم نجات پا سکیں‘‘(اعمال ۱۲:۴) ۔
’’خدا ایک ہے۔ اور خدا اور آدمیوں کے بیچ ایک آدمی بھی درمیان ہے۔ اور وہ یسوع مسیح ہے‘‘ (۱ تھیموتھیس ۵:۳) ۔