Our Life
By
One Disciple
ایک شاگرد
زندگی کے تین بڑے حصے
اور اپنی ماں کی تاکید کو مت ترک کر۔

بچوں کے واسطے ہدایتیں ۔
اَے لڑکو باپ کی تعلیم سُنو اور عقل مندی کے حاصل کرنے پر دھیان رکھو۔ امثال ۴: ۱ ۔ اَے میرے بیٹے میری شریعت کو فراموش مت کر پر تیرا دل میرے حکموں کو حفظ کر ے ۔ امثال ۳: ۱ ۔
اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ وہ عمر کی درازی اور پیری اور سلامتی تجھ کو بخشیں گے۔ تو تُو خُدا اور خلق کا منظورِ نظر ہو کے نعمت اور بڑی قدر پائے گا ۔ امثال ۳: ۴۔
اَے میرے بیٹے اگر گنہگار لوگ تجھے پھُسلا دیں تو مت مان ۔ امثال ۱: ۱۰ ۔
اپنے سارے دل سے خُدا وند پر توکل کر اور اپنی سمجھ پر تکیہ مت کر اور اپنی ساری راہوں میں اس کا اقرار کر اور وہ تیری رہنمائی کرے گا۔ امثال ۳: ۵، ۶ ۔
اپنی نگاہ میں آپ کو دانش مند مت جان ۔ خُداوند سے ڈر۔ اور بدی سے باز رہ ۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا۔ کہ یہ ناف کے لئے صحت اور تیری ہڈیوں کے لئے تراوٹ ہو گی ۔ امثال ۳: ۷، ۸۔
شریروں کی راہ میں داخل مت ہو اور خبیثوں کے رستے پر مت جا۔ اس سے بازرہ اور اس کے نزدیک گزر نہ کر ۔ اُدھر سے پھر جا اور گزر جا ۔ امثال ۴: ۱۴، ۱۵ ۔
دانش مند بیٹا باپ کو خوشنود کرتا ہے پر بے دانش فرزند اپنی ماں کا بار خاطر ہوتا ہے۔ امثال ۱۰: ۱۔
دانشور بیٹا اپنے باپ کی تعلیم سنتا ہے پر ٹھٹھا کرنےو الا سر زنش پر کان نہیں دھرتا ۔ امثال ۱۳: ۱۔
ہو شیار بیٹا باپ کو خوشنو دکرتا ہے پر بے وقوف آدمی اپنی ماں کی تحقیر کرتا ہے۔ امثال ۱۵: ۲۰۔
اَے میرے بیٹے تو سن اور دانشمند ہو اور اپنے دل کی راہبری کر ۔ امثال ۲۳: ۱۹ ۔
اپنے باپ کی بات جس سےتو پیدا ہوا ہے سُن اور اپنی ماں کو اس کے بڑھاپے میں حقیر نہ جان ۔ امثال ۲۳: ۲۲۔
اَے میرے بیٹے تو خُداوند سے اور بادشاہ سے ڈر اور ان لوگوں کے ساتھ صحبت نہ رکھ جو تلو ن مزاج ہیں۔ امثال ۲۴: ۲۱۔
کاش کہ تمام بچے لڑکپن میں داؤد کی طرح کہیں میں پیدا ہوتے ہی تجھ پر پھینکا گیا۔ جب میں اپنی ماں کےپیٹ سے نکلا تب ہی سے تو میرا خُدا ہے ۔ زبور ۲۲: ۱۰۔
’’ساری باتوں کو آزماؤ ۔ بہتر کو اختیار کرو ‘‘ ۔۔

جوانی کے ایام۔
شاید کوئی اس کا جواب دیتا لیکن داؤد خود و ہیں اس کا جواب یوں دیتا ہے ۔ اس پر خوب نگاہ کرنے سےتیرے کلام کے مطابق زبور ۱۱۹ : ۹ ۔ جو انوں کےلئے واعظ سب سے بڑی ہدایت یہ دیتا ہے۔ جو ہر ایک جوان کے لئے غور طلب ہے۔ اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے خالق کو یاد کر۔
بڑھاپا ۔
اکثر بعض اِنسان اپنی جوانی خرابی اور بڑائی اور ہر طرح کے نجس (ناپاک)کا موں میں صرف کر دیتے ہیں اور بڑھاپے میں ما لایا تسبیح لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں ۔ کہ اب ہم بندگی کر کے خُدا کو خوش کر لیں گے یہ ایسے لوگوں کا خیال بالکل غلط ہے اگر ایک لڑکا آم کےپھل یا کسی اور قسم کے پھل کا گود آپ کھا لے ۔ اور خالی گٹھلی اپنے باپ کو دے۔ تو کیا اس کا باپ اس کو قبول کر لے گا ۔ ہر گز نہیں بلکہ ایسے خیال پر وہ ایسے نادان لڑکے کو خوب تنبیہ کرے گا۔
اگر ہم اپنی بچپن کی عمر اور جوانی کے ایام خُدا کی راہ پر چلنے میں کاٹیں تو ہمارا بڑھاپا مبارک ہو گا۔ اور ہم داؤد کی طرح سے کہہ سکیں گے۔ میں جوان تھا اب بوڑھا ہوا پر میں نے صادق کو ترک کئے ہوئے اور اس کی نسل میں سےکس کو ٹکڑے مانگتے نہ دیکھا ۔ زبور ۳۷: ۲۵۔