Comfort of Heart
By
C.H.Luke
سی ایچ لوک
’’اے تم لوگو جو تھکے اور بڑے بوجھ سے دبے ہو سب میرے پاس آؤ کہ میں تمہیں آرام دوں گا‘‘(متی ۱۱:۲۸ )۔
میرے پاس آؤ کہ میں تمہیں آرام دوں گا

جب قادرِمطلق مالک کون ومکان نے آدم کو پاک وصاف بنایا تھا اُس کو زند گی کی تمام برکتیں حاصل تھیں پرافسوس کہ اُس نے حکم عدولی کی اور اُن برکتوں کو کھودیا ۔ اور سر کشی(بغاوت) کے سبب سے وہ پہلاآدمی بسبب گناہ کے تکلیف اوردُکھ کاآشنا بنا ۔اور اگرچہ اُس کے گناہ کی سزاموت تھی تاہم رحیم خدا نے ا پنے احکام دے کر اُس کو فر صت عمر کی بخشی اور توبہ اورمعانی کی جگہ چھوڑی ۔ اور اسی طرح پرکل بنی آدم کا بھی یہ ہی حصہ ہے۔ اگر انسان خدا کی شریعت کو جو اُس نے بنی آدم کے لیے عنایت فرمائی تھی جس کو دس (۱۰) احکام کہتے ہیں یا اخلاقی شرع جو سب لوگوں کے دلوں میں ثبت ہی پورے طورپرعمل لائےتو ازسر نو زندگی کی تما م برکتیں حاصل کرسکتا ہے لیکن اگر اُن میں قاصر رہےتو تو مستوجب سزاکا ٹھہرے گا۔ اُس کو عہدِ عمل کہتے ہیں اس عہدِ عمل پر چلنا ازحد مشکل ہوگیا ہے ۔کیونکہ بسبب گناہ کے انسان کا دل ناپاک ہوگیاہے اور پا ک خداکی مرضی کو بجالانا اُس کے لیے ازحد مشکل بلکہ نہ ممکن ہوگیا ہے۔ افسوس کہ بے شمار لوگ اس مشکل بلکہ ناممکن کام کے کرنے کا دم بھر تے ہوئے اپنی بیش قیمت جانوں کو ناحق کھوڈالتے ہیں۔ شریعت کی تکمیل آدمی کے لیے بسبب گناہ کے ایک بڑا بوجھ ہوگئی ہے کہ جس کو وہ اُٹھا نہیں سکتا بلکہ بالکل اُس کے نیچے دباہواہے ۔یہ ٹھیک ایسا ہے کہ جیسے کسی شخص کو طاقت نہیں کہ ایک من بوجھ اُٹھا ئے پردس(۱۰) من اُس کے سررکھا جائے اور وہ بیمار بھی ہو تو کیا وہ اس کو اُٹھاسکے گا ؟نہیں ہر گز نہیں ۔ ایساہی بوجھ شریعت کا ہے۔ جس کو کوئی بھی بشر اُٹھا نہیں سکتا ۔ تھوڑی سی سوچ وفکر والا بھی ضرور اس بات تسلیم کرے گا۔ توپھراے ناظرین کیا آپ شریعت کابھاری بوجھ اُٹھا سکتے ہو؟
کیا آپ اس سے تھک نہیں گئے ہو ؟اگریہ حال ہے تواس نااُمید ی میں ایک اُمید ہے جو گناہ گار کو ملتی ہے کہ خدا ن کا کلام مجسم ہو اور فضل اور راستی سے پھر پور ہوکر ہمارے درمیان رہا۔ اوراب جوااُس پر ایمان لائے وہ ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے ۔ اس مضمون کی سرخی اُسی نجات دہندے کی دلکش اورتسلّی بخش آوازہے جس نے گناہ گاروں کے عوض اپنی جان قربان کردی ۔ اور شریعت کو پورا کرکے عدل میں رحمت کی راہ گناہ گاروں کے لیے کھول دی ۔ اس لیے اب تما م لوگوں کو خواہ کسی فر قے یامِلّت کے ہوں اس بوجھ سے چھڑانے کے لیے بلاتا ہے ۔ ہاں وہ گناہ گاروں کو گناہ سے موت سے دوزح سے اور خدا کی لعنت سے رہائی دینے کے واسطے باآواز بلند پکار کے بُلاتا ہے ۔تم تھکے ہو میں تم کو آرام دوں گا۔ صرف آؤ۔یہ آرام اس دنیا کی چند روز ہ زندگی کا بے قیام آرام نہیں بلکہ روح کا ابدی آرام ہے جولازوال ہے ۔ جواس سے غافل رہے اُس کو خون اُس کی گردن پر۔ نجات کا دروازہ کھلا ہے ۔ سب کچھ تیار ہے ۔ کچھ دیر نہیں ۔ صرف آنے کی دیر ہے ۔آؤاور نجات مفت لےلو۔ دل کا آرام جو دُنیا کی عیش وعشرت عزت و دولت مال وغیر کسی شے سے حاصل نہیں ہوسکتا ۔ اب اس وقت زندگی کے مالک سے ملتا ہے جو ہاتھ پھیلا ئے ہوئے ہم تم سب کو پیا ر سے بلاتا ہے ۔ اپنے فائد ے کے واسطے نہیں بلکہ ہمارے فائد ے کے واسطے ۔ اب یہ آواز دھیمی، حلیم اور پیاری اور ترس کی آواز ہے لیکن کب تک ؟آپ کے لیے جب تک کہ آپ کودم قائم ہے دُنیا کے لیے جب تک کہ یہ آسمان اورزمین برقرار ہیں لیکن وقت مقررہ کے بعد جب کہ آپ کا سفر یہاں ختم ہو جائے گا ۔ اورموت کا سمن(حاضرعدالت ہونے کا تحریری حکم) مل جائے گایہ آواز پھر سُنائی نہ دے گی ۔ اور دُنیا کوبھی نہ سُننے میں آئے گی ۔ کیونکہ عناصر جل کر گزار ہوجائیں گے ۔ اُس وقت کے بعد یہ آواز دہندہ عدالت کے تخت پر بیٹھ جائے گا ۔ اور آواز کے نہ سننے والوں کو جنہوں نے سن کر اپنے کان بھاری اوردل موٹے کرلیے سخت اورخوفناک آواز سے فتویٰ ِدوزخ کادے گا۔
اے ناظرین وقت کوغنیمت سمجھ کر اس ناپائید ار (قائم نہ رہنے والی)زندگی کو ہیچ و پوچ(قابل نفرت) جا ن کر آیند ہ زندگی اُس کی برکتوں اور دلی آرام اور روح کے اطمینان کو حاصل کرنے کے لیے اس آواز کے شنواہوجو کہتی ہے ’’اے تم لوگوجو تھکے اور بڑے بوجھ سے دبے ہوسب میرے پاس آؤ کہ میں تمہیں آرام دوں گا‘‘۔