The Objection on the Bible And Deity of Christ
By
Rev.Mulawi Muhammad Shah
پادری مولوی محمد شاہ
جناب ایڈیٹرصاحب
اب بندہ پاک کلام سے جناب مسیح کی الوہیت کی بابت چند دلیلیں پیش کرتا ہے جن کو سائل غور سے پڑھے ۔
بائبل میں دیکھیں تو اُن کو معلوم ہو جائے گا کہ جناب مسیح کون ہے

(اوّل )
یہوواہ یا خداوند کہلاتا ہے ۔ وہ خدا کہلاتا ہے ( رومیوں ۹: ۵) اور باپ دادے ان ہی میں کے ہیں اور جسم کی نسبت مسیح بھی اُنہیں میں سے ہوا جو سب کا خدا ہمیشہ مبارک ہے آمین وہ خدائے بر حق اور ہمیشہ کی زندگی کہلاتا ہے( ۱۔یوحنا ۵: ۲۰) وہ بزرگ خدا کہلاتا ہے ( طیطس ۲: ۱۳) وغیر ہ سائل کو مناسب ہے کہ ان آیات کو غور سے دیکھے ۔
(دوم)
( یو حنا ۳: ۱۳) اور کو ئی آسمان پر نہیں گیا سواُس شخص کے جو آسمان پر سےاُتر ا یعنی ابنِ آدم جو آسمان پر ہے۔اس آیت میں جناب مسیح یہ ظاہر کرتے میں ابنِ آدم ہو کے الہیٰ ذات رکھتا ہوں اور میں الہٰی شخص ہو کے آسمان و زمین دونوں جگہوں میں موجو د ہوں۔ ( متی ۲۸: ۲۰) دیکھو۔ و ہ غیر مبدل(لاتبدیل) کہلاتا ہے (عبرانیوں ۱۳: ۸) یسوع کل اور آج اور ابد تک یکساں ہے ۔ وہ ازلی کہلاتا ہے ۔ ( میکاہ ۵: ۱) ( یوحنا ۸: ۵۸) یسوع نے اُنہیں کہا میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں پیشتر اس سے کہ ابراہا م ہو میں ہوں ۔ وہ اوّل و آخر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
(مکاشفہ ۱: ۸) میں الفا اور اومیگا ہوں یعنی میں اوّل اور آخر ہو ں وغیرہ ۔ وہ عالم الغیب کہلاتا ہے ( مکاشفہ ۲: ۲۳) اور ساری کلیسیا ؤں کو معلوم ہو گا کہ میں وہی ہوں جو دلوں اور گردوں کا جانچنے والاہوں وغیرہ ۔ ( یوحنا ۲: ۲۴؛۴باب ۱۸؛ ۱۶باب ۳۰ ) ان آیات میں ہمارے جناب مسیح کے عالم الغیب ہونے کا بیان ہے ۔
(سوم )
باپ کے بر ابر اُس پر ایمان لانا چاہئے یعنی خدا کی برابر ( یوحنا ۱۴: ۱) تم خدا پر ایمان لاتے ہو مجھ پر بھی ایمان لاؤ ۔ اُس کے آگے ہر ایک گُھٹنا جُھکے گا( یسعیاہ ۲۵: ۲۳) ( رومیوں ۱۴: ۱۰ ۔۱۱) ( فلپیوں ۲: ۱۰ ) سائل کو مناسب ہے کہ ان آیات کو بھی غور سے دیکھے ۔
(چہارم )
کیونکہ اُسی سے ساری چیزیں جو آسمان او رزمین پر ہیں

وہ خلقت کا پیدا کنندہ کہلاتا ہے ۔ ( کلسیوں ۱: ۱۶) کیونکہ اُسی سے ساری چیزیں جو آسمان او رزمین پر ہیں دیکھیں اور اندیکھیں کیا تخت کیا حکومتیں کیا ریاستیں کیا مختاریاں پیدا کی گئیں وغیرہ ( یو حنا ۱:۱۔ ۳) وہ خلقت کو سمبھالتا ہے ۔( عبرانیوں ۱: ۲۔ ۳) ان آخر ی دنوں میں ہم سے بیٹے کےوسیلے بولا جس کو اُس نے ساری چیزوں کا وارث ٹھہرا یا اور جس کے وسیلے اُ س نے عالم بنا ئے و ہ اُس کے جلال کی رونق اور اس کی ماہیت کا نقش ہو کے سب کچھ اپنی ہی قدرت کے کلام سے سمبھالتا ہے وغیر ہ ۔ لوگوں کواُن کے گناہوں سے خلاضی دیتا ہے ( عبرانیوں ۹: ۱۲) اپنی قدرت سے معجزہ دکھلاتا ہے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ ( مرقس ۲: ۵) قیامت کے دن مردو ں کو زندہ کرئے گا ( یوحنا ۵: ۲۸۔۲۹) یہ سب آیا ت ہمارے جناب مسیح کے حق میں ہیں اگر سائل مہر بانی سے ان کو بائبل میں دیکھیں تو اُن کو معلوم ہو جائے گا کہ جناب مسیح کون ہے بائبل میں نبی اور رسول نے جناب مسیح کو الہٰی درجہ دیا ہے اگر نبی اور رسول جناب مسیح کو فقط انسان ہی خیال کرتے تو اس کو ایسے درجہ میں بیان نہ کرتے جیسا کہ اُنہوں نے روح القدس کی ہدایت سے پاک کلام میں بیان کیا ہے کیونکہ انسان کی عقل اُس کو قائل کرتی ہے کہ کسی انسان کو الہٰی درجہ دے کر اس کو خدا جاننا یہ بات انسان کی عقل کے نزدیک بہت بُری معلوم ہے اور خدا کے نزدیک بھی یہ ایک بڑا بھاری گناہ ہے جیسا کہ خدا کے پہلے اور دوسرے حکم میں ذکر ہے ایسا کون انسان ہے جو یہ کلمہ کہہ کر اپنے اُوپر خدا کی لعنت لے اور ہمیشہ کے عذاب کا مستحق ہو جائے خداکی اور مقدسوں اور فرشتوں کی صحبت سے محروم ہو جائے ۔ مولوی صاحب خدا کے کلام میں ایسی بہت سی آیا ت ہیں جن سے جناب مسیح کی الوہیت ثابت ہوتی ہے ۔ اور جناب مسیح نے بھی اپنے آپ کو یہودی قوم کے سامنے ابن اللہ کہہ کراپنے میں ذات الہٰی کے شامل ہو نے کا دعویٰ کیا ہے کہ میں ابن ِاللہ ہوں اور خدا میرا باپ ہے ۔اگر آپ کہو کہ یہودی اور فرشتہ بائبل میں ابن اللہ کہلاتے ہیں ہاں بے شک اُ ن کی نسبت ابنِ اللہ لفظ لکھا ہے مگر جس غرض سے جناب مسیح اپنے کو ابن اللہ کہتے تھےاُس غرض سے نہ ہوئے اور نہ فرشتہ ابن ِآدم کہلاتے ہیں ۔جناب مسیح اپنے کو ابن اللہ کہہ کر اپنے میں ذات ِالہٰی کو شامل کر کے خدا کے برابر ٹھہراتے تھے بلکہ خدا کا اور اپنا ایک ہونا بیان کرتے تھے دیکھو (یوحنا ۷: ۹) سے شروع کر کے جبکہ فلپس نے جناب مسیح سے سوال کیا کہ ’’اے خداوند باپ کو ہمیں دکھلا تب جناب مسیح نے فلپس کے جواب میں کہا کہ اے فلپس میں اتنی دیر سے تمہارے ساتھ ہوں اور تم نے مجھے نہ جانا جس نے مجھ کو دیکھا باپ کو دیکھا ہے کیونکہ میں اور باپ ایک ہیں ‘‘پھر اگر سائل یوحنا کی انجیل کا مطالعہ کرے گے تو اُن کو معلوم ہو جائے گا جب کہ یہودی لوگوں نے جناب مسیح کو کہا کہ تو انسان ہو کے تئیں خدا کے برابر ٹھہراتا ہے اور اپنے کو ابن اللہ کہہ کر اپنے میں خدا کی ذات کو شامل کرتا ہے یہ تو کفر کہتا ہے اور انسان ہو کے اپنے کو خدا بناتا ہے ۔ قدیم زمانہ کے ایماندار لوگ جناب مسیح کو ایک الہٰی شخص جان کراُس کی پیروی دل و جان سے کرتے تھے اور دشمنوں کی ایذاسے موت کے وقت اُ س کو اپنی روح سپر د کرتے تھے دیکھو ( اعمال ۷) میں استفنس کا ذکر ہے کہ اُس نے موت کے وقت کیا کہا ۔ یہ کہ جناب مسیح میں ذات الہٰی ہے یعنی وہ ایک الہٰی شخص ہے ۔اس بات کو جان کر مسیحی اُس کو خدا مانتے تھے اس عقیدہ کا انکار قرآن میں بھی موجود ہے کہ عیسائی لوگ جناب مسیح کو خدا جانتے ہیں جیسا کہ سورہ مائدہ آیت ۷۲ میں لکھا ہے
;لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ
یعنی البتہ تحقیق کا فر ہوئے وہ لوگ جو کہتے ہیں تحقیق اللہ وہی ہے مسیح بیٹا مریم کا ۔ وغیرہ
قرآن میں عیسائیوں کے اس عقیدہ کا انکار اُس وقت کیا گیا ہے جب کہ یہ عقیدہ قدیم عیسائی کلیسیا میں رائج تھا اور جناب مسیح کو خدائے مجسم مانتےتھے چنانچہ یہی عقیدہ جو کہ قدیم کلیسیا کا خدا کے کلام کے مطابق تھا آج کل بھی یہی عقیدہ مسیحی کلیسیا میں پایا جاتا ہے ۔ مولوی صاحب مسیحی لوگ ہر زمانہ میں جنابِ مسیح کی الوہیت کو خدا کے کلام کےمطابق مانتے چلے آئے ہیں یہ کچھ نئی بات ہے جو کہ ہم لوگوں نے اپنی طرف سے ایجاد کی ہو۔ یہ ہمارا عقیدہ خدا کے کلام کے مطابق ہے ۔اس عقیدہ کو ہم چھوڑ نہیں سکتے ہیں کیونکہ اس عقیدہ کا چھوڑ نا گویا خدا کے کلام کو رد کرنا ہے اور اپنے اوپر خدا کی لعنت لینا ہے فقط ۔