I am the Good Shepherd
By
One Disciple
ایک شاگرد
اچھاچرواہا میں ہوں۔ اچھا چرواہا بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہے (یوحنا ۱۰ : ۱۱)۔
’’اچھاچرواہا میں ہوں۔ اچھا چرواہا بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہے ‘‘۔

اب وہ لوگ جو کہا کرتے ہیں ۔ کہ اگر مسیح خُدا ہے۔ تو اس کو ایسی کیا غرض اور ضرورت تھی ۔ کہ وہ اوروں کے بدلے دنيا میں آ کر دُکھ اُٹھائے ۔ اور صلیبی موت کو اختیار کرے ۔ گم شدہ اِنسان کی قریب الہلاکت حالت پر ۔ اور خُداوند کی محبت اور اس کے رحم و کرم پر کچھ غور و فکر کریں۔ تو معلوم ہو گا کہ مسیح کا مجسم ہو کر دُنیا میں آنا ۔ اور گنہگاروں کے بدلے میں اپنی جان دينا کیا معنی رکھتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مسیح کا انسانی صورت کو اختیار کر کے دُکھ اُٹھانا ۔ اور مارا جانا مجبوری و بے مقدوری کی وجہ سے نہ تھا۔ اور جیسا کہ اس نے اسی باب کی سولہویں اور سترہویں آیتوں ميں فرمایا کہ ۔ ’’ باپ مجھے اس لے پیا ر کرتا ہے۔ کہ میں اپنی جان دیتا ہوں۔ تاکہ میں اسے پھر لوں ۔ کوئی شخص اسے مجھ سے نہیں لیتا۔ پر میں آپ اسے دیتا ہوں۔ میرا اختیار ہے۔ کہ اُسے دُوں ۔ اور میرا اختیار ہے کہ اسے پھر لوں یہ حکم میں نے اپنے باپ سے پایا ۔ یہ بات روزِ ازل سے قرار پر چکی تھی ۔ کہ گنہگار بنی آدم کے کفارہ کےلئے ابن ِاللہ بصورت انسان ظاہر ہو کے ایک کامل (مکمل)قربانی گذارنے ۔ اور خُدا اور اِنسان میں صلح کرا کے دو کو ایک کرے ۔جیسا لکھا ہے کہ ’’ مسیح نے اپنا جسم دے کر دشمنی کو یعنی شریعت کے حکموں اور رسموں کو کھو دیا۔ تا کہ وہ صلح کر ا کے دو سے آپ میں ایک نیا اِنسان بنا دے ۔ اور آپ میں دشمنی مٹا کےصلیب کےسبب سے دونوں کو ایک تن بنا کر خُدا سے ملائے۔ افسیوں ۲: ۱۵، ۱۶۔
لیکن متعصب(تعصب کرنے والا) اور نفسانی (خود غرض)آدمی ان باتوں کو ہر گز قبول نہیں کرتا ۔ اور انجیل کی زندگی بخش تعلیمات کے مقصد و معنی کو نہ سمجھ کر اپنے تاریک فہم و عقل(دانائی و عقل) کے مطابق ان کی تفسیر و تشریح کرتا ہے۔ چنانچہ تحفہ محمد یہ میں یہ کسی مسلمان نےلکھا ہے۔ کہ ’’ حضرت مسیح کسی طور سے راضی نہ تھے مصلوب ہوں ‘‘ اور اپنے اس خیال کے ثبوت میں خُدا وند مسیح کی اس دُعا کو جو اس نے گتسمنی میں مانگی ۔ انجیل سے اقتباس (اخذ کرنا) کیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ ’’ اس کے گڑ گڑ ا کر یہ دُعا مانگنے سے کہ ’’ اے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گزر جائے ‘‘۔ ثابت ہو تا ہے کہ مسیح کسی طور سے راضی نہ تھے۔
افسوس ہے کہ اس قسم کے اعتراض اور خیال کرنے والے اشخاص مقدس نوشتوں سے بخوبی واقفیت نہیں رکھتے ۔ اور صرف اپنے مطلب کے پورا کرنے کے واسطے کہیں سے کوئی بات نکال کر اپنے حسب ِمنشا (مرضی کے مظابق) اس کی شرح و بیا ن کرتے ہیں۔ معترض نے شاید اس دُعا ئیہ آیت کے آخری الفاظ پر غور نہیں کیا جو یہ ہیں۔ تو بھی میری خواہش نہیں۔ بلکہ تیری خواہش کےمطابق ہو ‘‘ ۔ بات یہ ہے کہ جب تک مسیح کی ُروح پاک اِنسان کے ذہن کو نہ کھولے ۔ وہ کلام اللہ کی ان باتوں کو ہر گز سمجھ نہیں سکتا ۔ اور نہیں جانتا کہ ’’ یوں لکھا ۔ اور یوں ہی ضرور تھا۔ کہ مسیح دُکھ اُٹھائے اور تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھے ‘‘( لوقا ۲۴: ۴۶)۔